ایران نے خلیج میں جاری بحری دباؤ اور اسٹریٹ آف ہرمز میں کشیدگی کے بعد پاکستان کے ذریعے گوادر ٹرانزٹ کوریڈور کو فعال کر دیا ہے جس سے علاقائی تجارت اور سپلائی چین میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے “ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026” کے تحت ایران اور دیگر ممالک کے لیے سامان کی ترسیل گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم کے راستے ممکن بنا دی گئی ہے، جس سے خلیجی بندرگاہوں پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام کے بعد ایران کی تجارتی ترسیلات کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان کے زمینی اور سمندری راستوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے علاقائی لاجسٹکس نیٹ ورک میں نمایاں تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔
گوادر کوریڈور کے ذریعے ایران کو سامان کی ترسیل میں وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں کمی آ رہی ہے، جبکہ یہ راستہ بحری ناکہ بندی اور نگرانی کے خطرات سے بھی نسبتاً محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے ایران کی بڑی درآمدات اور ری ایکسپورٹ تجارت کا انحصار دبئی اور دیگر خلیجی مراکز پر تھا، لیکن اب یہ نظام بتدریج پاکستان کے راستوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے نہ صرف ایران کی تجارتی حکمت عملی متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے میں بڑی طاقتوں کی بحری حکمت عملی اور اثر و رسوخ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
گوادر اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے نئی راہداری کے فعال ہونے کو ایک اہم جغرافیائی و معاشی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں خطے کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے نقشے کو تبدیل کر سکتی ہے۔