لوچستان کے ضلع گوادر میں نصابی کتابیں کچرے میں پڑی ملنے کے بعد ایک بلوچ طلبہ تنظیم نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (BSAC) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی بڑی تعداد میں نصابی کتابیں کچرے میں پڑی دکھائی گئیں۔ تنظیم کے مطابق یہ کتابیں تعلیمی سال 2024-25 کے لیے شائع اور گوادر میں تقسیم کی گئی تھیں، تاہم بعد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں ضائع شدہ حالت میں پائی گئیں۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ “تعلیمی ایمرجنسی” کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ واقعہ صوبے کے تعلیمی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ بی ایس اے سی کے مطابق یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نوعیت کے کئی کیسز موجود ہو سکتے ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔
بلوچ لٹریری کمپین کے تحت تنظیم نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے بلوچستان اور پنجاب سے دو بلوچ افراد کی مبینہ جبری گمشدگیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے مطابق 26 سالہ گلوکار رزاق بلوچ کو کوئٹہ سے جبکہ ریٹائرڈ فوجی اہلکار دوست محمد کو ڈیرہ غازی خان سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔