32°C Storm

پاکستان جنگ بندی بچانے کی آخری کوششیں تیز کر دی

اسلام آباد، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کو بچانے کے لیے آخری لمحات میں سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نیتھلی اے بیکر سے ملاقات میں زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کیا جائے تاکہ کشیدگی کم ہو سکے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے بات چیت اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

ادھر ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں حکومتی ترجمان نے کہا کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اسلام آباد مسلسل تہران سے رابطے میں ہے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران مذاکرات میں شریک ہو تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔

چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی امن کے لیے اہم ہیں۔

ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی مدت آج ختم ہو رہی ہے اور صورتحال انتہائی نازک ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے۔