پاکستان میں موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کے سلسلے میں اسلام آباد کو ایک مرکزی سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف خطے میں امن کے امکانات کو زندہ رکھ رہی ہیں بلکہ عالمی معیشت کو ممکنہ طور پر کھربوں ڈالر کے نقصان سے بچانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی ثالثی کامیاب ہو کر جنگ کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے تو عالمی معیشت کو ہونے والا ممکنہ نقصان سینکڑوں ارب ڈالر سے بڑھ کر کھرب ڈالر کی سطح تک جا سکتا تھا، جس میں توانائی کے شعبے، عالمی تجارت، انشورنس، اور ترسیل کے نظام پر پڑنے والے اثرات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ جنگ کی صورت میں عالمی شرح نمو میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم راستے بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا سفارتی کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک ایسا رابطہ کار بن کر سامنے آیا ہے جو مختلف فریقین کے ساتھ بات چیت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کردار کو پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف توانائی بحران، مہنگائی اور عالمی تجارت پر دباؤ کم ہوگا بلکہ دنیا کو ممکنہ معاشی تباہی سے بھی بچایا جا سکتا ہے، جس کا اندازہ سینکڑوں ارب سے لے کر کھرب ڈالر تک لگایا جا رہا ہے۔