نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسلام آباد میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 212 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ای الیون اور جی ٹین کے علاقوں میں 3 کال سینٹرز پر چھاپے مارے گئے، جہاں پاکستانی اور چینی شہریوں سمیت مرد و خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران 306 موبائل فون، 383 کمپیوٹر اور مرکزی نظام، جبکہ 299 لیپ ٹاپ اور مانیٹرز قبضے میں لیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر ملزمان آن لائن ملاقات کی ایپلی کیشنز کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کرتے، اعتماد قائم کرنے کے بعد انہیں جعلی آن لائن کام اور سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کی طرف لے جاتے تھے جہاں مالی منافع کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ این سی سی آئی اے کے مطابق مبینہ نیٹ ورک گوگل کے ذریعے ہونے والے دھوکے اور آن لائن ملاقاتوں سے متعلق فراڈ میں ملوث تھا، جبکہ اس کے عملی روابط بھارت اور برازیل تک پائے گئے ہیں۔ 22 ستمبر کو جی ٹین مرکز میں ایف ایف کے لودھی کال سینٹر اور جی ٹین فور کے پاس ایک اور مرکز پر بھی چھاپے مارے گئے، جہاں ڈیجیٹل آلات، برقی سامان اور سرور کا ڈیٹا قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ اسلام آباد میں سائبر کرائم رپورٹنگ مرکز نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت 2 مقدمات درج کرلیے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں