کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی نے منگل کے اجلاس کے دوران دو اہم ترمیمی بلز منظور کرلیے جن کا مقصد صوبے کے قانونی اور عوامی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے ضابطہ فوجداری 1898 بلوچستان ترمیمی بل اور بلوچستان شہری سہولت و گورننس بل 2026 ایوان میں پیش کیے، جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں منظور کرلیا گیا۔ بلوچستان کیڈٹ کالجز ترمیمی بل 2026 بھی ایوان میں پیش کیا گیا تاہم اسے منظوری دینے کے بجائے مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن میر زبید ریکی نے عمرہ کیلئے سعودی عرب روانگی کے دوران ایئرپورٹ پر روکے جانے کے معاملے پر احتجاج کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے انہیں سفر سے روکا اور بتایا کہ انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے پاسپورٹ بلاک کرکے نام پاسپورٹ کنٹرول اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واقعے پر مذمت کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو وضاحت کیلئے طلب کیا، تاہم ریکی کی جانب سے اسمبلی میں پاسپورٹ فرش پر پھینکنے کے عمل پر بھی تنقید کی۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے زبان اکیڈمیوں کیلئے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے محکمہ جنگلات میں مبینہ بھرتیوں کی بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائری میں تاخیر پر سوال اٹھایا