گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز ٹو کی تعمیر کے لیے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 750 ایکڑ اراضی حاصل کر لی ہے، جس سے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے کے اہم منصوبے پر عملی پیش رفت ہوئی ہے۔ اراضی کا حصول گزشتہ ہفتے گوادر ماسٹر پلان کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2026-27 کے ذریعے مکمل کیا گیا۔
ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز ٹو کی منظوری 2025 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر سے متعلق آٹھویں جوائنٹ ورکنگ گروپ اجلاس میں دی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی میں 200 ملین روپے مختص کیے ہیں، جبکہ منصوبے کی مجموعی تخمینہ لاگت 30.13 ارب روپے ہے۔
منصوبے کی 95 فیصد لاگت چینی گرانٹ کے ذریعے فراہم کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ تعمیراتی کام چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ انجام دے گی۔ منصوبے کے تحت 13.8 کلومیٹر طویل چھ رویہ ڈوئل کیرج وے تعمیر کی جائے گی، جس میں چار پختہ لینز شامل ہوں گی۔ یہ شاہراہ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو موجودہ ایسٹ بے ایکسپریس وے سے منسلک کرے گی اور گوادر پورٹ تک کارگو کی نقل و حرکت مزید بہتر بنائے گی۔
منصوبے میں ٹول پلازہ، ڈرینج سسٹم، روشنی، حفاظتی باڑ اور سکیورٹی ٹاورز سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی شامل ہیں۔
ایسٹ بے ایکسپریس وے کا پہلا مرحلہ تقریباً 19 کلومیٹر طویل ہے اور 3 جون 2022 کو فعال کیا گیا تھا۔ فیز ون نے گوادر پورٹ، فری زونز اور مکران کوسٹل ہائی وے کے درمیان رابطہ بہتر بنایا، جبکہ فیز ٹو کی تکمیل سے بندرگاہ، ایئرپورٹ اور علاقائی لاجسٹکس نیٹ ورک کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔