وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا، جس میں پیٹرول اور ڈیزل پر حال ہی میں اعلان کردہ ڈیلر مارجن میں اضافے کی منظوری سمیت ملک کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ قانون سازی پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے متعلق ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر وزیر قانون کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں ملک میں امن و امان اور مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ مختلف اہم قانون سازی کی تجاویز زیر غور آئیں گی۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارت میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان پر بھی تشویش اور مذمت کا اظہار متوقع ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس بھی آج دوپہر 2 بجے طلب کیا گیا ہے، جہاں حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت ضمنی ایجنڈے کے ذریعے ایک اہم بل ایوان میں پیش کر سکتی ہے اور متعلقہ قواعد معطل کرکے اسی روز منظوری لینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون سازی پہلے وفاقی کابینہ سے منظور کرائی جائے گی، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے اپنے تمام ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ادارہ جاتی قانون سازی کی نوعیت کابینہ کی منظوری کے بعد واضح ہوگی۔
حکومت کی جانب سے قانون سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، جس میں مجوزہ قانون سازی اور سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔