28°C Sunny

وزیراعلیٰ بلوچستان کا صوبے کی صورتحال پر اظہار خیال – سرفراز بگٹی نے کہا بلوچستان کو منفی انداز میں پیش کرنا حقائق کے منافی ہے

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کی سیکیورٹی اور حکمرانی کی صورتحال نہ مکمل طور پر مثالی ہے اور نہ ہی بعض حلقوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تصویر کے مطابق انتہائی خراب ہے۔

ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ منفی اور یکطرفہ بیانیہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے تشخص اور حکومتی ترقیاتی اقدامات کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا اکثر بلوچستان کو صرف کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد اجاگر کرتا ہے جبکہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، اصلاحات اور عوامی فلاحی اقدامات کو مناسب کوریج نہیں ملتی۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نوجوانوں کیلئے متعدد فلاحی پروگرام شروع کیے، سرکاری اسپتالوں میں سہولیات بہتر بنائیں، تمام سرکاری اسکولوں کو فعال کیا اور شفاف و میرٹ پر مبنی عمل کے ذریعے تقریباً 17 ہزار اساتذہ بھرتی کیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے ڈویژنز اور اضلاع کے قیام کا مقصد انتظامی نظام کو مضبوط بنانا اور عوام تک سرکاری خدمات کی رسائی بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق بڑے انتظامی یونٹس کی وجہ سے دور دراز علاقوں تک مؤثر حکومتی رسائی مشکل ہوتی ہے، جبکہ چھوٹے یونٹس سے عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد ملے گی۔

سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین سے مدد حاصل ہے جبکہ ان گروہوں کے سہولت کاروں اور معاونین کے روابط کا تعلق بھارتی انٹیلی جنس نیٹ ورک سے ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے اعتراف کیا کہ بلوچستان کا وسیع رقبہ، دشوار گزار پہاڑی علاقے، طویل سرحدیں اور منتشر آبادی سیکیورٹی آپریشنز کو پیچیدہ بناتی ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دے کر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے دہشت گرد واقعات کو ریاست سے جوڑنے کی کوششیں نقصان دہ اور گمراہ کن ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے محتاط رہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مسلح دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات کی کوئی کامیاب عالمی مثال موجود نہیں، تاہم سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ بات چیت سیاسی، انتظامی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے یوم آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Just In
12-09-2026
بلوچستان میں 4 روز میں 3 بڑے دہشت گرد حملے – 38 سیکیورٹی اہلکار اور 4 شہری شہید، 54 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر کراچی میں اکتوبر میں قومی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد ہوگا – ایشین روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کیلئے قومی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا پاکستان میں گدھوں کی صنعت کے تحقیقی مرکز کے قیام کے لیے چینی کمپنی کا 10 سالہ معاہدہ کوئٹہ میں ٹریفک مسائل کے حل کے لیے اوپن کورٹ کا انعقاد پاکستان اور یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت اے ڈی بی کا پاکستان کے لیے موسمیاتی مزاحمت منصوبے پر 250 ملین ڈالر قرض کی تجویز – قدرتی آفات سے نمٹنے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ براہ راست فلائٹس شروع کرنے پر زور بلوچستان میں صحت شعبہ مضبوط، 352 پیرا میڈکس و نرسز کی تربیت شروع بلوچستان: مزدوروں کو ترقی کا ستون قرار، حکومت کی فلاحی اقدامات کی یقین دہانی اسلام آباد میں پی اے ایف افسر کے قتل کی تحقیقات کا حکم