وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں نوجوانوں کی شمولیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے یوتھ انگیجمنٹ پلان کے تحت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے ایک آن لائن ڈسکشن (اوپن ایکس اسپیس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کے تمام اضلاع، بشمول گوادر، میں نوجوانوں کو بہتر روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی پالیسی کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے پہلی بار پنشن اصلاحات، الیکٹرک وہیکل پالیسی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور مختلف محکموں میں جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ اور اسکالرشپس کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
سرفراز بگٹی کے مطابق صوبے میں 4 ارب روپے کے منصوبے کے تحت تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور صحت کے مراکز میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ڈیجیٹل تعلیم اور جدید سہولیات کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر ریاستی اداروں کے خلاف غلط پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، تاہم مضبوط اور پیشہ ور مسلح افواج کی موجودگی میں ریاستی رٹ کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ عوامی سطح پر حکومت کے مؤقف کی حمایت بڑھ رہی ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ریاستی بیانیے سے جڑ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے براہ راست عوامی رابطے کو فروغ دے رہی ہے تاکہ شفاف اور مؤثر طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔