34°C Cloudy

امریکی بالادستی سے غیر یقینی صورتحال تک عالمی طاقت کا بدلتا منظرنامہ

ایران جنگ کے بعد عالمی سیاست میں امریکہ کی روایتی بالادستی کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کی طاقت طویل عرصے سے مالی برتری، عسکری قوت اور تکنیکی جدت پر قائم رہی، تاہم حالیہ تنازع نے اس پوزیشن کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ڈالر عالمی معیشت کی بنیاد بنا جبکہ نیٹو اتحاد اور دنیا بھر میں فوجی اڈوں نے امریکہ کو عالمی اثر و رسوخ فراہم کیا۔ سائنسی اور تکنیکی ترقی، بشمول مصنوعی ذہانت، نے بھی امریکہ کو عالمی سطح پر برتری دی۔

تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے نہ صرف مالی اور عسکری نقصانات کو نمایاں کیا بلکہ خطے میں عدم استحکام بھی بڑھایا۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی دنوں میں ہی اربوں ڈالر کے اخراجات اور اہم عسکری سازوسامان کے نقصانات نے امریکی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے نسبتاً کمزور ملک کی مزاحمت نے امریکی دفاعی نظام اور اس کے اتحادیوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو چیلنج درپیش ہے۔

ادھر پاکستان سمیت مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں مستقل امن قائم نہیں ہو سکا اور صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔