امریکا اور ایران نے جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران پاکستان میں دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن کا ہدف 22 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اختلاف برقرار ہے، جن میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام میں تاخیر، افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا طویل مدت کے لیے ایران کی افزودگی میں وقفہ چاہتا ہے جبکہ ایران نسبتاً کم مدت کی پابندی پر آمادہ ہے۔ اسی طرح فریقین کے درمیان اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا کیا کیا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس عمل میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔