دبئی، 2 اپریل 2026: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل، روٹس تبدیل یا محدود کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس سے خطے کی فضائی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فضائی حدود اور ایوی ایشن نیٹ ورکس میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد عالمی فضائی کمپنیاں احتیاطی طور پر اپنی پروازیں روک رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی ایئرلائنز صورتحال کے مطابق اپنی آپریشنل سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کر رہی ہیں، تاہم کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے آئندہ چند ہفتوں اور مہینوں تک خطے کے لیے پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات، فضائی حدود کی پابندیوں اور آپریشنل مشکلات کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب قطر ایئرویز نے اپنی پروازوں کی تعداد بتدریج بڑھانا شروع کر دی ہے اور منصوبہ بنایا ہے کہ مئی کے وسط تک دوحہ سے اور دوحہ کے لیے 120 سے زائد مقامات تک پروازوں کی بحالی مکمل کر لی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی فضائی نظام، سفری شیڈول اور کمرشل ایوی ایشن پر پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ فضائی کمپنیوں کو بھی لاجسٹک چیلنجز درپیش ہیں۔
ایوی ایشن حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے تک پروازوں میں مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔