30°C Sunny

بلوچستان میں اینٹیمنی سمیت اہم معدنیات کی تلاش کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ منصوبہ، پشین میں 499 مربع کلومیٹر علاقے پر توجہ

پاکستان اور ترکیہ نے بلوچستان میں اینٹیمنی، سونا، تانبا، چاندی اور دیگر اہم معدنیات کی تلاش اور ممکنہ کان کنی کے لیے مشترکہ منصوبے پر پیش رفت کی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) اور ترکیہ کی ایم ٹی اے انٹرنیشنل کمپنی (ایم ٹی اے آئی سی) نے 16 اکتوبر 2026 کو مشترکہ منصوبے کے لیے ابتدائی شرائط پر مشتمل دستاویز پر دستخط کیے۔

پاکستان ٹوڈے کے مطابق، مجوزہ منصوبے میں بلوچستان حکومت کا نامزد کردہ ادارہ بھی شامل ہوگا۔ منصوبے کے تحت ضلع پشین میں تقریباً 499 مربع کلومیٹر پر محیط ایکسپلوریشن لائسنس EL-318 کے علاقے میں معدنی وسائل کی تلاش اور ترقی پر کام کیا جائے گا۔ معاہدے کی حتمی شرائط 31 دسمبر 2026 تک طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی دستاویز غیر پابند نوعیت کی ہے، اس لیے منصوبے پر عملی کام اور سرمایہ کاری کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

اس شراکت داری میں خصوصی توجہ اینٹیمنی پر مرکوز ہے۔ یہ چاندی مائل سفید دھاتی عنصر ہے جسے بیٹریوں، برقی نظام، سیمی کنڈکٹرز اور توانائی کے شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دفاعی صنعت میں بھی اس کی اہمیت ہے، جہاں یہ نائٹ وژن آلات، گولہ بارود اور دیگر دفاعی سازوسامان کی تیاری میں کام آتا ہے۔

اینٹیمنی کی عالمی اہمیت میں اس لیے اضافہ ہوا ہے کہ چین اس کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جبکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک متبادل اور قابلِ اعتماد سپلائی ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ مارچ 2025 میں پاکستان کے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے بلوچستان میں اینٹیمنی کے اہم ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔

ستمبر 2025 میں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور امریکی ادارے یو ایس اسٹریٹجک میٹلز نے بھی اہم اور نایاب معدنیات کی ترقی و پراسیسنگ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔

تاہم، پاکستان اور ترکیہ کے مجوزہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار حتمی معاہدے، سرمایہ کاری، سکیورٹی صورتحال اور متعلقہ ضابطہ جاتی امور پر ہوگا۔ ابتدائی دستاویز پر دستخط کو منصوبے کی عملی تکمیل یا معدنی پیداوار کے آغاز سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

Just In
27-10-2026
مکہ دفاعی معاہدے سے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا امکان – چین نے علاقائی ممالک کی سکیورٹی خود سنبھالنے کی پالیسی کی حمایت کردی بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ، اغوا برائے تاوان کے واقعات پر تشویش سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کا کردار بڑھانے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ مؤقف، اصلاحات پر زور حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات – نویں روز بھی ہڑتال جاری، بندرگاہوں پر کارگو نظام شدید متاثر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پاکستان نے خلا مشن کے لیے دو خلاباز منتخب کر لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران بحران اور علاقائی کشیدگی پر سیاسی قیادت کا اجلاس طلب کرلیا گوادر، 14 اپریل (ویب ڈیسک): ضلعی انتظامیہ گوادر نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ایک منفرد کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں عوامی مسائل براہِ راست سنے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کھلی کچہری میں شہریوں نے شہری سہولیات، صحت، تعلیم اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق شکایات اور مسائل پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر نے موقع پر متعدد مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے اور بعض معاملات پر ریلیف اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام شہری و سماجی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ حکومت نے ڈیزل کی قیمت بتیس روپے بارہ پیسے کم پاکستان کو ایک ہفتے میں قطر سے مائع قدرتی گیس کی دوسری کھیپ موصول، آبنائے ہرمز سے ترسیل کے لیے ایران سے مذاکرات