بلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی اور صوبے کی غیر استعمال شدہ معاشی و تجارتی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے بلوچستان اکنامک اینڈ انویسٹمنٹ فورم ۲۰۲۶ بدھ، ۲۱ اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہوگا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجاز اور بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے پیر کو ایف پی سی سی آئی کے ریجنل دفتر میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فورم کے انعقاد کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق فورم کا مقصد بلوچستان کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، معدنی وسائل سے مؤثر استفادہ اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانا ہے۔
فورم میں متعلقہ سرکاری محکموں اور اداروں کے اعلیٰ حکام اپنے شعبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیں گے۔ شرکا میں لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر لیاقت کاشانی، بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے سربراہ عبدالقادر زارکون، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے۔
منتظمین کے مطابق بلوچستان قدرتی وسائل، وسیع معدنی ذخائر، طویل ساحلی پٹی اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع رکھتا ہے۔ ان وسائل کی مؤثر ترقی سے صوبائی معیشت مضبوط، برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
ذکی اعجاز اور بلال خان کاکڑ نے گوادر پورٹ کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے گوادر کو بین الاقوامی تجارت، ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کا اہم مرکز بنایا جاسکتا ہے۔