29°C Sunny

یورپی یونین، اقوام متحدہ کے دو اداروں کا بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نظامِ انصاف بہتر بنانے کے لیے ایک کروڑ یورو کے چار سالہ پروگرام پر اتفاق

یورپی یونین، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے اور انصاف تک رسائی بہتر کرنے کے لیے چار سالہ پروگرام شروع کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس پروگرام پر ایک کروڑ یورو خرچ کیے جائیں گے۔

جمعرات کو جاری اعلامیے کے مطابق یہ پروگرام دونوں صوبوں کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر انصاف اور سکیورٹی کی خدمات کو عام شہریوں، بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے پر توجہ دے گا۔

منصوبے کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں، استغاثہ، عدالتوں، جیلوں اور ثالثی مراکز کی استعداد اور جواب دہی بہتر بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ متبادل طریقوں سے تنازعات کے حل کو فروغ دینے اور دیوانی و فوجداری انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے سربراہ برائے شراکت داری جیرون ولیمز نے کہا کہ پروگرام سے کمزور طبقات کو پولیس، استغاثہ، عدالتوں اور قانونی معاونت تک بہتر رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک کے مطابق انصاف تک رسائی شہریوں کو اپنے حقوق کے تحفظ، تنازعات کے حل اور روزگار و کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بناتی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے پاکستان میں نمائندے ٹرولز ویسٹر نے کہا کہ دونوں ادارے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر انصاف کی خدمات کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کام کریں گے۔

یہ پروگرام خواتین کی مساوات، انسانی حقوق اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی فروغ دے گا۔ یہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قانون کی حکمرانی اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے ۶ کروڑ ۵۰ لاکھ یورو کے وسیع تر تعاون کا حصہ ہے۔