27°C Sunny

سوئی میں سابق عسکریت پسند کمانڈر نور خان بگٹی نے ۶۰ ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت ہتھیار ڈال دیے

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں سابق عسکریت پسند کمانڈر نور خان بگٹی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس موقع پر ان کے ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت مجموعی طور پر ۶۰ افراد نے بھی ہتھیار ڈال کر پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا اور عسکریت پسندی ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ تقریب پاکستان ہاؤس میں وزیراعلیٰ کی جانب سے منعقدہ عوامی اجتماع کے دوران ہوئی۔ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نور خان بگٹی گزشتہ دو دہائیوں سے پہاڑوں میں روپوش تھے اور مبینہ طور پر متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔ ہتھیار ڈالنے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سوئی میں آباد ہوں گے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اور ملک بھر میں پائیدار امن کا قیام مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے ریاستی اختیار کو تسلیم کرنا اور تشدد ترک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ تشدد مسائل کا مستقل حل نہیں، بلکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے امن، باہمی اعتماد اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتیں ملک کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔ ان کے مطابق قومی دھارے میں واپسی کا فیصلہ متعلقہ افراد، ان کے خاندانوں اور خطے کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، جبکہ پائیدار امن کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ضروری ہے۔