بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تیسری بلوچستان ہیلتھ لیڈرشپ کانفرنس کا آغاز ہوا جس میں صوبے بھر میں صحت کے شعبے میں انتظامی صلاحیت، شفافیت، احتساب اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یہ دو روزہ کانفرنس بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ صحت حکام، ضلعی انتظامیہ اور سرکاری اسپتالوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
کانفرنس میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد صوبے کے صحت کے نظام کا جامع جائزہ لینا اور ضلعی و ہسپتال سطح پر کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔
سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد ادارہ جاتی مضبوطی، شفافیت اور احتساب کے نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ عوام کو معیاری صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے دیانتداری، پیشہ ورانہ کارکردگی اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوران کوئٹہ، مکران، لورالائی اور قلات ڈویژنز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کارکردگی کے جائزے میں جدید ٹیکنالوجی جیسے اے آئی بیسڈ بایومیٹرک حاضری، ملازمین کی پروفائلنگ، انٹیگریٹڈ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹس، حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح اور دیگر اہم صحت اشاریے شامل تھے۔
حکام کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا مقصد صحت کے اداروں میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اجلاس میں شریک اراکین نے صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔
پولیو کے خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات سے متعلق خصوصی سیشن میں بتایا گیا کہ خطرے والے علاقوں میں ویکسینیشن کی شرح کو بڑھانے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔ حکام نے کمزور کارکردگی والے علاقوں میں فوری بہتری کی ہدایت کی۔
کانفرنس کے دوران غیر حاضری، غفلت اور قواعد کی خلاف ورزی کے کیسز کی نشاندہی کر کے انہیں مزید کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔