بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں کوئلے کی کان میں گہرائی تک کھدائی کے دوران اچانک کان بیٹھنے سے دو مزدور جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ ایک مقامی ٹھیکیدار کے زیرِ انتظام کان میں پیش آیا جہاں مزدور ملبے تلے دب گئے۔ مقامی کان کنوں اور رضاکاروں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد دونوں افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کان میں کام جاری تھا اور اچانک زمین بیٹھنے سے بڑا ملبہ نیچے آ گرا۔ یہ واقعہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں مسلسل پیش آنے والے جان لیوا حادثات کی ایک اور کڑی ہے جہاں حفاظتی انتظامات کی کمی اور کمزور نگرانی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مزدور تنظیموں نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے محکمہ معدنیات کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ٹریڈ یونین رہنما پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی غفلت ہے، کیونکہ کانوں میں حفاظتی اصول صرف کاغذوں تک محدود ہیں جبکہ ہزاروں مزدور روزانہ غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کان کنی کے شعبے میں فوری اصلاحات اور سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔