30°C Sunny

عام پاسپورٹ کی مدت 21 سے کم کر کے 14 دن مقرر، تمام دفاتر کو کیش لیس نظام کا حکم

حکومت پاکستان نے عام پاسپورٹ کی فراہمی کی مدت 21 دن سے کم کر کے 14 دن کر دی ہے اور ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر کو 15 دن کے اندر مکمل طور پر کیش لیس نظام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

یہ فیصلے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں کیے گئے، جس میں وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق نئے فیصلے کے تحت عام پاسپورٹ کی ترسیل کا عمل فوری طور پر 14 دن میں مکمل کیا جائے گا، جس کا مقصد شہریوں کو تیز اور مؤثر سہولت فراہم کرنا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کیش لیس نظام کے نفاذ سے ایجنٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور شہریوں کو براہ راست اور شفاف خدمات میسر آئیں گی۔ انہوں نے تمام دفاتر کو ہدایت دی کہ 15 دن کے اندر نقد ادائیگی کا نظام مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاسپورٹ کے لیے بزنس کیٹیگری متعارف کرانے اور ہوم ڈیلیوری سسٹم کو بہتر بنانے پر کام تیز کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں پاسپورٹ دفاتر پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور طویل قطاروں کے باعث یہ اصلاحات ناگزیر ہو چکی تھیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 65 لاکھ سے زائد پاسپورٹس جاری کیے گئے، جبکہ شہریوں کی جانب سے تاخیر اور ایجنٹوں کے ذریعے اضافی ادائیگیوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

حکومت کے مطابق یہ اقدامات پاسپورٹ سروس کو مزید مؤثر، شفاف اور شہریوں کے لیے سہل بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔