سینیٹ کی کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل سے متعلق ذیلی کمیٹی نے حکومت سے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کے تحت اعلان کردہ پانچ ہزار ملازمتوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئی آسامیوں کے قیام، پُر کی جانے والی اسامیوں کی تعداد اور پیکیج پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال کی تفصیلات پیش کی جائیں۔
سینیٹر جان محمد بلیدی کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار اور سید کاظم علی شاہ نے شرکت کی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور پلاننگ ڈویژن کے حکام نے پیکیج پر عملدرآمد، بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کی مختص رقم اور استعمال، روزگار کے مواقع اور مختلف اسکیموں پر پیش رفت کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔
کنوینر سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج صوبے کے عوام کے حقوق کے تحفظ، ترقی کے فروغ اور احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے اہم اقدام ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں متعدد اقدامات کیے گئے، تاہم عملدرآمد میں خامیوں کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
پلاننگ ڈویژن نے بلوچستان کے لیے ۳۴۸ ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت چار منصوبوں پر بریفنگ دی۔ سینیٹر دنیش کمار نے پیش کردہ معلومات پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مستند اعداد و شمار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ ہر منصوبے کی مجموعی لاگت، مختص فنڈز، رقم کے اجرا و استعمال، مکمل ہونے والے کام اور جاری منصوبوں کی پیش رفت پر مشتمل جامع ریکارڈ پیش کیا جائے۔