ایران کی چابہار بندرگاہ کو درپیش غیر یقینی صورتحال پاکستان کی گوادر بندرگاہ کیلئے علاقائی تجارت میں نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ عرب نیوز میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق امریکی پابندیوں اور ایران امریکا جنگ کے باعث چابہار سے منسلک جہازرانی، مالیاتی لین دین اور تجارتی سرگرمیوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں، تاہم بھارت نے اس منصوبے سے مکمل دستبرداری اختیار نہیں کی اور بندرگاہ بدستور فعال ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ گوادر کی تزویراتی اہمیت کے باوجود اسے باقاعدہ تجارتی مرکز بنانے کیلئے مزید اقدامات درکار ہیں۔ پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2024-25 کے جولائی تا مارچ عرصے میں گوادر بندرگاہ پر صرف 42,500 ٹن کارگو سنبھالا گیا، جبکہ بھارت کے مطابق چابہار نے مالی سال 2023-24 میں 60,000 سے زائد کنٹینرز اور 1.9 ملین ٹن بلک و عمومی کارگو ہینڈل کیا۔ تاہم دونوں اعداد و شمار مختلف ادوار اور پیمانوں پر مبنی ہیں۔ گوادر میں رواں سال 53,277 ٹن اسٹیل بلیٹس سمیت بڑے بحری جہازوں کی آمد اور آبنائے ہرمز کے قریب رکاوٹوں کے باعث چینی صنعتی سامان لے جانے والے ایک جہاز کی گوادر منتقلی مثبت پیش رفت قرار دی گئی ہے۔ بندرگاہ پر تین کثیرالمقاصد برتھ، جدید کارگو آلات اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے ذریعے سڑک رابطہ موجود ہے۔ تجزیے کے مطابق گوادر کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ سامان کی بندرگاہ سے سڑک اور ریل تک قابل اعتماد اور مسلسل ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ عارضی سرگرمیاں مستقل تجارتی بہاؤ میں تبدیل ہوسکیں