بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کیلئے اگلی 1 ارب ڈالر کی قرض قسط کے اجراء سے قبل سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں ترامیم کو پیشگی اقدام قرار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 9 سے 10 سرکاری اداروں کے قوانین کو مرکزی سرکاری ادارہ جاتی قانون کے مطابق بنانے کیلئے نومبر 2026 کے وسط تک قانون سازی مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت جائزہ مذاکرات ہوئے، جن میں مالیاتی و ساختی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی 4.2 ارب ڈالر حاصل کرچکا ہے جبکہ باقی قوانین میں ترامیم کیلئے حکومت متعدد مرتبہ توسیع لے چکی ہے۔ مجوزہ ترامیم میں پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، نیشنل بینک، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن اور پاکستان ریلوے سمیت ادارے شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے بجٹ کے اعداد و شمار میں 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق میں سے 180 ارب روپے کو حکومت کے دعویٰ کردہ بنیادی بجٹ سرپلس کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ خودمختار دولت فنڈ قانون میں ترامیم میں تاخیر پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظائف میں اضافے کے طریقہ کار پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے