پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایک ہفتے تک معطل رہنے کے بعد ایران کے ساتھ بلوچستان کے ضلع گوادر میں واقع گبد رمدان سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ تاجروں اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس کے مطابق، خوراک کی اشیا اور چاول سے لدے ٹرک ایران روانہ ہوئے، جبکہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے جانے والے ٹینکرز کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
گوادر چیمبر آف کامرس کے صدر نوید جان کلمتی کے مطابق، ہفتے کو سرحد کھلنے کے بعد بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوئی، جس کے باعث گزرگاہ پر ٹرکوں کا رش بڑھ گیا۔ گبد میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ محمد رضوان نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے سے ایران جانے والے چاول اور دیگر غذائی اشیا سے لدے 28 ٹرکوں کی کلیئرنس کی۔
پاکستان نے 17 اکتوبر کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ تفتان اور گبد رمدان سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ دوطرفہ تجارت بھی متاثر ہوئی۔
سرحدی بندش کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً پنجاب میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی اور سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ایل پی جی درآمد کنندہ حاجی لیاقت کے مطابق، تفتان سرحد سے بھی ایران کی جانب پھنسے سیکڑوں ٹرکوں اور ایل پی جی ٹینکرز کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم وہاں سے پاکستان کی برآمدات تاحال بحال نہیں ہوئیں۔
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایرانی جانب سے پاکستان کو سامان برآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان کے ای فارم طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث تاجروں کو ایران سے پاکستان سامان بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 22 اکتوبر کو گوادر میں گبد سرحدی گزرگاہ پر مسلح افراد نے غذائی اشیا سے لدے پانچ ٹرکوں کو آگ لگا دی تھی۔ بلوچستان میں سکیورٹی خدشات اور پاکستان ایران رابطہ شاہراہ این-40 پر مال بردار گاڑیوں پر حملوں نے بھی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔