بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیکس قوانین پر مؤثر عمل درآمد، محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اصلاحاتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں سیکریٹری خزانہ جہانگیر خان کاکڑ، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین بی آر اے نے اتھارٹی کی مجموعی کارکردگی، محصولات کی وصولی، ادارہ جاتی اصلاحات اور جاری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرکاری امور کو بہتر بنانے اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ حکام نے مزید بتایا کہ مستقبل میں ٹیکسوں کے تعین اور تشخیص کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں بی آر اے کے آڈٹ ونگ کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا، نگرانی کا نظام بہتر کرنا اور ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے جاری رجسٹریشن مہم کے ذریعے مزید کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ صوبائی محصولات میں اضافہ اور ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بی آر اے کی کارکردگی اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ محصولات کی وصولی بہتر بنانے، ٹیکس قوانین کے نفاذ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نگرانی اور بہتر انتظامی حکمت عملی اپنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت محصولات کے نظام کو جدید بنانے اور سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گی۔