بلوچستان کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں دوہری شفٹ کے تحت تدریسی عمل شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد موجودہ عمارتوں اور دستیاب سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
منظور شدہ انتظام کے تحت سرکاری اسکول دو مختلف اوقات میں کلاسیں منعقد کر سکیں گے، جس سے نئی عمارتوں کی تعمیر کے بغیر مزید بچوں کو داخلہ دینے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ اس اقدام کو صوبے میں تعلیم تک رسائی بڑھانے اور سرکاری سہولیات کے بہتر استعمال کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
کابینہ نے بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ ۲۰۲۵ کی بھی منظوری دی۔ اس قانون کا مقصد ۱۰ سے ۱۶ سال کی عمر کے تقریباً ۱۶ لاکھ ایسے بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانا ہے جو رسمی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے فیصلے عوامی فلاح اور عملی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے صوبے میں تعلیمی مواقع بڑھانے اور تعلیم سے محروم بچوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔