وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا ہے کہ مستونگ میں انگور کے باغات یا دیگر نجی املاک کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کی صورت میں متعلقہ مالکان کو سہولت کار سمجھا جائے گا۔ مرکزی پولیس دفتر میں ڈیجیٹل اقدامات کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت عام شہریوں کو نقصان پہنچانے والا اقدام نہیں چاہتی، تاہم اگر نجی زمین سے سکیورٹی فورسز یا صوبائی وزرا پر حملے کیے گئے تو مالکان لاعلمی کا دعویٰ نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باغ مالکان کو بارہا خبردار کیا گیا ہے اور دہشت گردی کے لیے نجی املاک کا استعمال جاری رہا تو بڑے پیمانے پر منتقلی یا ایسے باغات کے خاتمے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور پولیس اہلکاروں کا خون انتہائی مقدس ہے اور نجی املاک کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرکے اہلکاروں کی شہادت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان پولیس کی ڈیجیٹلائزیشن میں پیش رفت کا بھی اعلان کیا۔ پولیس کی آٹھ درخواستوں کو جدید بنایا گیا جبکہ آٹھ نئی سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں۔ خواتین کے تحفظ، شکایات کے اندراج اور شہدا کے خاندانوں کی معاونت کے لیے بھی ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کے لیے پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ متعلقہ اہلکاروں کے لیے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔