بلوچستان کے گورنر شیخ جعفر خان مندوخیل نے صوبے میں امن و امان اور دیگر مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہمیشہ بہتر راستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں بلوچستان ہیلتھ لیڈرشپ کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
گورنر نے کہا کہ مخلوط حکومتوں میں گورننس کے مسائل سامنے آنا معمول کی بات ہے، تاہم بلوچستان میں مختلف شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے عملے کی حاضری اور صحت مراکز کی فعالیت کو بہتر بنایا گیا ہے۔
شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ صحت کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوامی مسائل میں کمی لائی جا سکے۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی و دیگر صوبائی اراکین اسمبلی کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق سوال پر گورنر نے قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی حکومتوں میں اندرونی معاملات کو عام طور پر عوامی سطح پر زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور تحفظات وقتاً فوقتاً سامنے آتے ہیں لیکن انہیں بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈھائی سالہ پاور شیئرنگ معاہدے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے بلکہ توجہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر ہونی چاہیے۔ گورنر نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ہی اصل ترجیح ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو اس مقصد کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
