پاکستان نے جنگوں اور غیر ملکی قبضے کے باعث متاثر ہونے والے بچوں کے تحفظ کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان کے نائب مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت مختلف تنازعات میں بچوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں ایک سال میں بارہ ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں بچوں کو جسمانی تشدد اور شدید نفسیاتی صدمے کا سامنا ہے جسے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستانی نمائندے نے زور دیا کہ ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ نگرانی اور رپورٹنگ کی جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے مسائل کا حل صرف تب ممکن ہے جب تنازعات کی اصل وجوہات کو ختم کیا جائے اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل، بحالی اور متاثرہ بچوں کی نفسیاتی مدد کے لیے مسلسل سرمایہ کاری پر بھی زور دیا۔