پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (PRCCSF) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے کہا ہے کہ عالمی نظامِ حکمرانی میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی کے لیے پاکستان کی بین الاقوامی پالیسی مباحث میں شرکت اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کے شہر شیونگ آن میں منعقدہ گلوبل گورننس فورم 2026 میں شرکت کے بعد کہی۔
23 سے 25 اکتوبر تک چین کے صوبے ہیبے کے شیونگ آن نیو ایریا میں ہونے والے اس فورم میں حکومتی عہدیداروں، ماہرینِ تعلیم، کاروباری رہنماؤں، سفارت کاروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور کلیدی خطاب میں کثیرالجہتی تعاون اور ممالک کے درمیان اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔
فورم میں اقوام متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے علاوہ فیصلہ سازی میں ترقی پذیر ممالک کی شمولیت بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے مصنوعی ذہانت، سائبر اسپیس کی حکمرانی، موسمیاتی تبدیلی، ماحول دوست ترقی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی مالیاتی تعاون جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی۔
چین اور آسیان کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق مباحث میں ضابطہ جاتی ہم آہنگی، صلاحیتوں میں اضافے اور صنعتی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے 2030 اور عالمی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں گلوبل ساؤتھ کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
خالد تیمور اکرم کے مطابق فورم میں شرکت سے انہیں کثیرالجہتی تعاون، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے سے متعلق خیالات کے تبادلے کا موقع ملا۔ انہوں نے تحقیقاتی اداروں اور پالیسی ماہرین کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
فورم کے شرکا نے شیونگ آن نیو ایریا کے دوروں کے دوران شہری منصوبہ بندی، تکنیکی جدت اور ماحولیاتی نظم و نسق کے اقدامات کا جائزہ لیا، جہاں ترقیاتی منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا۔