31°C Sunny

گوادر پورٹ پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کا دروازہ – بلوچستان عالمی تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، گورنر جعفر مندوخیل

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کی حقیقی فعالیت اور ترقی پاکستان اور بلوچستان میں ایک خاموش معاشی انقلاب برپا کرے گی، جبکہ یہ بندرگاہ پاکستان کو عالمی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پاکستان ایک ایسے معاشی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جو خطے کی منڈیوں، ثقافتوں اور صنعتوں کو آپس میں جوڑ دے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہنگ سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں سیاسی ڈائریکٹر ژانگ سونگ اور وانگ ژاؤشیانگ بھی موجود تھے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونا دونوں ممالک کی پائیدار دوستی، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کا مظہر ہے۔

جعفر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں چین کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی جامعات اور نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے چینی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ وظائف اور تعلیمی مواقع نوجوان نسل کو عالمی سطح پر کامیابیوں کے نئے دروازے کھول کر دے سکتے ہیں۔

اس موقع پر چین کے قائم مقام قونصل جنرل فینگ دہنگ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین بلوچستان میں سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے، جبکہ گوادر سے ژوب تک ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے معاشی سرگرمیوں اور عوامی معیارِ زندگی میں بہتری لائی جائے گی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے، اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔