نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع جلد حل ہو جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال بدستور حساس بنی ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خاتمہ پاکستان کا بنیادی مقصد ہے اور اسلام آباد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے “اسلام آباد مذاکرات” اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور امید ہے کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے 8 اپریل کو جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور بعد ازاں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو “ہتھیار ڈالنے کا سفید جھنڈا لہرا دینا چاہیے”، جبکہ امریکا نے ایران کی بحری صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری پابندیوں کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ان اقدامات کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان بحری کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔