30°C Sunny

گوادر تاخیر کے بعد پاکستان نے چین کو گدھے کے گوشت کی برآمد کی منظوری دے دی

پاکستان نے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین کو برآمد کی منظوری دے دی ہے، جس سے گوادر میں قائم ایک چینی سرمایہ کاری سے منسلک کمپنی کی جانب سے آپریشن بند کرنے کی دھمکی کے بعد پیدا ہونے والا بحران ختم ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق ہنگینگ ٹریڈ کمپنی، جو گوادر میں ایک مذبحہ خانہ چلا رہی ہے، نے طویل عرصے سے برآمدی کلیئرنس میں تاخیر اور انتظامی رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ مسلسل تاخیر سے نہ صرف آپریشن متاثر ہوگا بلکہ ملازمین کی چھانٹی بھی ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق معاملہ وزیراعظم آفس تک پہنچا جس کے بعد فوری طور پر پالیسی کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ نے برآمدات کی منظوری دے دی، جبکہ اینیمل قرنٹین ڈیپارٹمنٹ نے ضروری اجازت نامے جاری کر دیے۔

سرکاری اور صنعتی ذرائع کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً 2 لاکھ 16 ہزار گدھے برآمد کرتا ہے، جن کا زیادہ تر استعمال چین میں روایتی ادویات اور کاسمیٹک مصنوعات میں کیا جاتا ہے۔ اس تجارت کی مالیت اندازاً 30 کروڑ ڈالر سالانہ بتائی جاتی ہے۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا کہ تاخیر کے دوران “پالیسی کے نفاذ میں خلا اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال” نے مشکلات پیدا کیں، جس سے سرمایہ کاری کے تسلسل پر سوالات اٹھے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گوادر اور دیگر سرمایہ کاری منصوبوں میں ریگولیٹری کارکردگی اور پالیسی تسلسل اہم چیلنج ہیں۔ تاہم منظوری کے بعد برآمدات بحال ہو گئی ہیں اور صنعتی سرگرمیوں میں تسلسل کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔