30°C Sunny

پاک فوج کا افغان سرحد پر جوابی وار، آپریشن جاری

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے پاکستان افغانستان سرحد پر افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ کا مؤثر جواب دیتے ہوئے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چمن سیکٹر میں کارروائی کے دوران سرشن، المر جان اور ادھی پوسٹ سمیت مختلف تنصیبات اور ایک گاڑی کو تباہ کیا گیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آپریشن “غضب لی الحق” کے تحت جاری ہیں، جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مقررہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق “فتنہ الخوارج” سے مراد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر ہیں، جن کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ 15 اپریل کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان جانب سے مبینہ گولہ باری کے نتیجے میں دو بچوں سمیت تین شہری جاں بحق اور تین زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق فروری کے آخر میں شروع ہونے والے آپریشن “غضب لی الحق” کا مقصد سرحدی علاقوں میں درپیش خطرات کا مؤثر جواب دینا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، جبکہ عیدالفطر کے دوران عارضی جنگ بندی کے بعد صورتحال کچھ حد تک بہتر ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق پاکستان نے بارہا مؤقف اختیار کیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے عناصر افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں، تاہم افغان حکام اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے سرحدی صورتحال کو ایک بار پھر حساس بنا دیا ہے۔