وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ بلوچستان اور سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے مزید 5 ہزار طلبہ و طالبات کو ملک کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی مواقع فراہم کرنا اور ان کی تعلیمی ترقی میں معاونت کرنا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان اور سابق فاٹا کے لڑکوں اور لڑکیوں کو ملک بھر کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس پروگرام کے ذریعے ان طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ملک کے معروف تعلیمی اداروں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ اس سے قبل بھی باصلاحیت طلبہ کو ملک کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اسکالرشپ پروگرام متعارف کرایا گیا تھا۔ اب اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت مزید 5 ہزار طلبہ و طالبات کو اس سہولت سے مستفید کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم پسماندگی کے خاتمے اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی کو فروغ دینے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان اور سابق فاٹا جیسے علاقوں میں تعلیمی مواقع کی فراہمی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کو ان علاقوں کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔