نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی اور مصری ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال، علاقائی کشیدگی اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ۱۸ اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے جاری اجلاس پر بھی بات چیت کی اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے گفتگو میں سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل آر فور گروپ کے آئندہ اجلاس پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس اجلاس کا مقصد باہمی تعلقات مضبوط بنانا اور علاقائی امور پر رابطہ کاری بڑھانا ہے۔
یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔