28°C Sunny

گوادر کو نئی معاشی شناخت دینے کا وقت آگیا – سی پیک 2.0 علاقائی تجارت اور رابطوں کا نیا مرکز بن سکتا ہے

گوادر بندرگاہ کو خطے کے اہم تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر ترقی دینے کا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے، جہاں بدلتی ہوئی جغرافیائی و معاشی صورتحال پاکستان کے لیے علاقائی رابطوں، تجارت اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سی پیک 2.0 اگرچہ گزشتہ برسوں میں مختلف ساختی رکاوٹوں، سیکیورٹی چیلنجز اور سرمایہ کاری میں تاخیر کا شکار رہا، تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی نے گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکا ایران تنازع کے باعث خلیجی خطے میں بحری تجارت کو درپیش خطرات نے آبنائے ہرمز کی حساسیت کو نمایاں کیا ہے، جس کے بعد عالمی سپلائی چینز متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔ بحیرہ عرب پر واقع گوادر بندرگاہ پاکستان کو توانائی، ایل این جی، خوراک اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک متبادل علاقائی راہداری فراہم کر سکتی ہے۔

حالیہ لاجسٹک سرگرمیوں میں پاکستان کے ایران کے ساتھ چھ زمینی راستوں کے ذریعے سیکڑوں کنٹینرز کی چین اور وسطی ایشیا تک ترسیل نے بلوچستان اور گوادر کی جغرافیائی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان میں تین راستے گوادر کے علاقے گبد سے ایران کے رمیدان بارڈر کے ذریعے استعمال کیے گئے۔

گوادر منصوبہ ایک مکمل تجارتی نظام کے طور پر تصور کیا گیا ہے جس میں گہرے پانی کی بندرگاہ، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سڑکوں کا نیٹ ورک اور خصوصی اقتصادی زون شامل ہیں۔ تاہم سیکیورٹی صورتحال اور اسپیشل اکنامک زون کی سست پیش رفت کے باعث بندرگاہ اپنی مکمل تجارتی صلاحیت حاصل نہیں کر سکی۔

ماہرین کے مطابق گوادر کو وسطی ایشیائی ریاستوں خصوصاً ازبکستان اور قازقستان کے ساتھ توانائی اور تجارتی روابط کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر اور کراچی بندرگاہوں تک ترجیحی رسائی کی پیشکش بھی علاقائی تجارت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے 100 ہزار ایکڑ پر مشتمل مجوزہ آئل سٹی منصوبے کی بحالی پر غور بھی بندرگاہ کو توانائی اور پیٹروکیمیکل مرکز بنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد تیل ذخیرہ کرنے، ریفائننگ اور علاقائی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر کو عالمی تجارتی مرکز بنانے کے لیے کسٹمز نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، بندرگاہی آپریشنز میں بہتری، کارگو ہینڈلنگ کی رفتار میں اضافہ اور آف ڈاک ٹرمینلز کا قیام ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مائع کارگو کے لیے شپ ٹو شپ آپریشنز کی اجازت بھی بندرگاہ کی افادیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔

تجزیے کے مطابق بہتر سیکیورٹی، موثر انتظامی اقدامات اور سرمایہ کاری دوست ماحول کے ذریعے گوادر جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغربی چین کے درمیان ایک اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

Just In
27-10-2026
6.1 شدت کا زلزلہ، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں شدید جھٹکے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا صوبہ گیر مانیٹرنگ آپریشن شروع مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی پاکستان کی بیرونی معاشی صورتحال کمزور ہونے کی پیش گوئی سوئی میں سابق عسکریت پسند کمانڈر نور خان بگٹی نے ۶۰ ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت ہتھیار ڈال دیے بلوچستان میں مواصلاتی شعبے کی ترقی اور شاہراہوں کی تعمیر پر وفاقی وزیر اور گورنر کا تبادلہ خیال پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، کاروباری شراکت داری اور معاشی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ بگٹی کا بیان: بلوچستان بجٹ عوامی ضروریات کے مطابق ہوگا عارف حبیب لمیٹڈ نے یورومنی مارکیٹس ایوارڈز ۲۰۲۶ میں پاکستان کے بہترین بروکر کا اعزاز حاصل کر لیا سرفراز بگٹی کا حنا اورک میں آپریشن کا حکم – دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، مشترکہ چیک پوسٹیں اور متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان بلوچستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کو عالمی سطح پر پذیرائی، صحت کے شعبے میں اصلاحات کا اعتراف