30°C Sunny

پاکستان بیکنگ سمٹ 2026 میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک پر زور

نیشنل الائنس فار سیف فوڈ کے زیر اہتمام پاکستان بیکنگ سمٹ 2026 کراچی کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں بیکنگ، آٹے کی صنعت، فوڈ پروسیسنگ، نیوٹریشن اور ریگولیٹری شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ کانفرنس میں محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور جدید بیکنگ کے مستقبل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

سمٹ کے افتتاحی سیشن میں رانا اویس خان نے کہا کہ پاکستان میں بیکنگ انڈسٹری کو مضبوط بنانے کے لیے صنعت، تعلیمی اداروں، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کے درمیان تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ قومی غذائی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

ماہرین نے فوڈ فورٹیفکیشن کو غذائی قلت کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ فوڈ فورٹیفکیشن ایکسپرٹ معین قریشی نے کہا کہ آئرن، زنک، فولک ایسڈ اور وٹامنز کی کمی بچوں اور خواتین کی صحت، نشوونما اور پیداواریت کو متاثر کر رہی ہے، جس کے حل کے لیے مضبوط حکمت عملی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیکنگ انڈسٹری فورٹیفائیڈ آٹا، میدہ اور خوردنی تیل کے استعمال سے بغیر کھانے کی عادات بدلے عوامی صحت میں بہتری لا سکتی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی اس شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

سیشنز میں ماہرین نے جدید عالمی فوڈ سیفٹی معیار، ٹرانس فیٹس کے خاتمے، فرنٹ آف پیک لیبلنگ اور صحت مند بیکنگ ٹیکنالوجیز پر بھی روشنی ڈالی۔ محققین نے کہا کہ صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق صحت مند اور محفوظ خوراک کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔

سمٹ میں مختلف بڑی بیکری اور فوڈ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بھی شرکت کی اور برآمدات، برانڈنگ، پائیدار پیکیجنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو کی۔ ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی بیکنگ انڈسٹری میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔

اختتامی سیشن میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ محفوظ خوراک، غذائی تحفظ اور برآمدات کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں پاکستان کی معاشی ترقی اور صحت عامہ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔