ایران کے اعلیٰ سطحی وفد نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کراچی کا دورہ کیا جہاں پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط، سرمایہ کاری اور گوادر و چاہ بہار بندرگاہوں کے درمیان تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وفد کی قیادت ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر نے کی جبکہ چاہ بہار فری زون کے سی ای او محمد سعید اربابی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینے اور لاجسٹکس، گوشت، ٹرانسپورٹ، بحری امور، چاول اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
FPCCI حکام نے کہا کہ گوادر اور چاہ بہار بندرگاہیں ایک دوسرے کی معاونت سے خطے کو عالمی تجارتی ٹرانزٹ حب میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بارٹر ٹریڈ اور براہِ راست تجارتی روابط کے مؤثر نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کاروباری نمائندوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف قابلِ حصول ہے، بشرطیکہ کسٹمز کے نظام کو آسان بنایا جائے اور بارڈر مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
اجلاس میں زرعی اور غذائی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی جہاں پاکستانی برآمد کنندگان نے کہا کہ چاول اور حلال گوشت کی برآمدات ایران کی فوڈ سیکیورٹی ضروریات پوری کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے ٹرانزٹ سہولیات، کولڈ چین لاجسٹکس اور سرحدی نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی جا سکے۔