31°C Sunny

بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرانے کا ٹینڈر، ہائی کورٹ نے کارروائی روک دی

بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو مسمار کرنے کے مجوزہ منصوبے سے متعلق ٹینڈر کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ یہ عمل 11 مئی تک معطل رہے۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مندوخیل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواستیں وکلاء امان اللہ کنرانی اور سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

عدالت نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کو ہدایت کی کہ 7 مئی کو کھولا جانے والا ٹینڈر فوری طور پر نہ کھولا جائے اور مکمل عمل آئندہ سماعت تک روک دیا جائے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور اسے قومی ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا اس کی مسماری قانون اور عوامی مفاد کے خلاف ہوگی۔

سماعت کے دوران حکومتی وکلاء نے مؤقف پیش کیا جبکہ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد معاملے پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کارروائی روک دی۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے پہلے ہی موجودہ اسمبلی عمارت کو گرانے اور اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ موجودہ عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی اور 1985 میں اس کا افتتاح اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کیا تھا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ عمارت بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس میں توسیع بھی ممکن نہیں۔ نئی عمارت کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 5 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فی الحال ٹینڈر اور مسماری کا عمل روکا جائے۔