ایران نے کہا ہے کہ اسے اپنے 14 نکاتی امن منصوبے پر امریکا کا جواب پاکستان کے ذریعے موصول ہو گیا ہے جس کا تہران اس وقت جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس مرحلے پر امریکا کے ساتھ کوئی باضابطہ جوہری مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے بھیجے گئے ردعمل کے بعد صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ بیک وقت سفارت کاری اور ممکنہ کشیدگی دونوں کے لیے تیار ہے۔ ایران کے انقلابی گارڈز (IRGC) نے کہا ہے کہ امریکا کو اب “ناممکن جنگ یا خراب معاہدے” میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم انہیں ان کی منظوری کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے دوبارہ کوئی “غلط اقدام” کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 14 نکاتی منصوبے میں اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش ختم کرنے، امریکی پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور تنازع کے خاتمے کی تجاویز شامل ہیں، جبکہ جوہری معاملہ بعد میں زیر بحث لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل اور گیس سپلائی متاثر ہوئی ہے اور عالمی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ادھر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ سفارتی عمل اگرچہ جاری ہے لیکن اعتماد کی کمی اور سخت بیانات کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔