30°C Sunny

ہرمز بحران کے باعث شپنگ کمپنیوں کا گوادر پورٹ کی طرف رخ بڑھ گیا

گوادر: آبنائے ہرمز کے گرد جاری عدم استحکام اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث شپنگ کمپنیوں نے بحری راستے تبدیل کرتے ہوئے بحیرہ عرب میں گوادر پورٹ کو عارضی متبادل اسٹاپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اپریل 2026 کے دوران بندرگاہ پر کارگو سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ماہ گوادر پورٹ نے تقریباً 11 ہزار کنٹینرز ہینڈل کیے ہیں، جبکہ 2025 کے پورے سال میں یہ تعداد صرف 8 ہزار 300 تھی۔ اس کے علاوہ مختلف شپمنٹس میں مشینری، عمومی سامان اور کھاد بھی بڑی مقدار میں اتاری گئی۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کا اہم ترین راستہ ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث شپنگ آپریٹرز کو متبادل راستوں کی تلاش کرنی پڑ رہی ہے۔ اس صورتحال میں کچھ جہاز اپنے سفر کے دوران شیڈول تبدیل کر رہے ہیں یا محفوظ مقامات پر عارضی طور پر لنگر انداز ہو رہے ہیں۔

گوادر پورٹ اپنی اسٹریٹجک لوکیشن اور گہرے پانی کی صلاحیت کے باعث عارضی ٹرانس شپمنٹ اور اسٹاپ اوور مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ اضافہ بنیادی طور پر وقتی حالات کا نتیجہ ہے اور اسے طویل مدتی تجارتی ترقی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق یہ رجحان خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی عارضی لاجسٹک ضروریات کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ مستقل تجارتی تبدیلی کی۔